صفحہ اول / آرکائیو / ’’گلگت بلتستان کے بارے میں تازہ معلومات‘‘

’’گلگت بلتستان کے بارے میں تازہ معلومات‘‘

گلگت بلتستان کے کل 9 اضلاع ہیں۔ کل آبادی تقریباً 15 سے 16لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ تقریباً 90فیصد آبادی خواندہ ہے۔ گلگت بلتستان میں شیعہ، سنی، اسماعیلی اور نور بخشی کے لوگ آباد ہیں۔ ٹوٹل آبادی کا تقریباً 60فیصد حصہ شیعہ آبادی پر مشتمل ہیں۔ 20فیصد تک اہل سنت اور 20فیصد تک اسماعیلی اور نوربخشی مسلک کے لوگ آباد ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کی وجہ سے گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے حالانکہ گلگت بلتستان عملاً پاکستان کا حصہ ہے اور سوائے چند افراد کے باقی مکمل آبادی پاکستان کا حصہ ہے اور سوائے چند افراد کے باقی مکمل آبادی پاکستان میں باقاعدہ شمولیت چاہتی ہے۔ حتیٰ کہ گلگت بلتستان کے عوام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان میں باقاعدہ شمولیت کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔

گلگت بلتستان کو نیم صوبائی حیثیت پیپلز پارٹی کے دور میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے دی گئی۔ حافظ حفیظ الرحمن اس وقت گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے دوران امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور ترقیاتی کام بھی پہلے سے زیادہ ہوئے ہیں۔ جو لوگ احتجاج کررہے ہیں وہ دراصل آرڈیننس 2018 کے خلاف ہے کیونکہ یہ آرڈیننس یہاں کے عوام کو پاکستان کے دیگر عوام کی طرح مکمل شہری حقوق نہیں دیتا۔عوام کا مطالبہ ہے کہ آرڈیننس 2018 کو منسوخ کرکے گلگت بلتستان کے عوام کو مکمل آئینی حقوق دیے جائیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کی طرح قومی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔ اس احتجاج کے دوران مختلف سیاسی اور مذہبی شخصیات کو مختلف الزامات کے تحت شیڈول فورمیں بھی ڈالا گیاہے جبکہ یہ لوگ محب وطن ہے اور انہوں نے کوئی دہشتگردی نہیں کی۔ مقامی لوگ ان اقدامات کو حکومت کا غیر ضروری ردعمل قرار دے رہے ہیں۔

خشک میوہ جات اور سیروسیاحت کی وجہ سے گلگت بلتستان دنیا بھر میں مشہور ہے اور انہی دو ذرائع پربیشتر آمدنی کا انحصار ہے۔ اب سی پیک کی وجہ سے کچھ پراجیکٹ تکمیل کے مراحل میں ہیں جن سے روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام کے لیے صرف ایک یونیورسٹی ہے اور اکثر طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان اور گلگت بلتستان کے درمیان آمدورفت کا واحد ذریعہ پی آئی اے کی پرواز اور ایک نجی بس سروس ہے البتہ پی آئی اے کے کرائے اتنے زیادہ ہیں کہ عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہیں جب کہ نجی بس سروس کی گاڑیاں اتنی بڑی آبادی کے لیے ناکافی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس میں مزید بہتری کے لیے اقدامات کرے۔ چلاس میں جو واقعات پیش آئے جن میں طالبات کے اسکولوں کو جلایا گیا انہیں ہمارے ذرائع سی پیک کو ناکام بنانے کی ایک سازش قرار دیتے ہیں۔

Check Also

جنگ ستمبر کی یادیں

الطاف حسن قریشی کا کالم 6 ستمبر قوم کی وحدت، عظمت، عزیمت اور شجاعت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے