صفحہ اول / آرکائیو / جمہوریت کی ریل گاڑی

جمہوریت کی ریل گاڑی

زاہدہ حنا کا کالم

 

انگریز بہادر کے زیر سایہ ہم نے بیسویں صدی میں انتخابات کا ذائقہ چکھا اور اب آزادی کے ستر برس بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ برصغیر جو کبھی ہندوستان کے نام سے پہچانا جاتا تھا اب ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں تقسیم ہوچکا ہے۔ ان ملکوں میں سے ہندوستان اور بنگلہ دیش میں تسلسل اور تواتر سے انتخابات ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں، اس کے باوجود 2008 سے 2018 تک انتخابات ہوتے رہے ہیں، ان میں سے بعض پر اعتراضات اور اختلافات ہیں، پھر بھی جمہوریت کی ریل گاڑی ابھی تک پٹری پر ہے، ہم نہیں کہہ سکتے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا لیکن امید بہتر کی ہی رکھنی چاہیے۔

پچھلے دنوں افریقا اور ایشیا کے کئی ملکوں میں انتخابات ہوئے اور وہاں بھی دھاندلی کا شور شرابہ رہا۔ ایسے میں اپنے مشہور ادیب کرشن چندر یاد آئے، جنھوں نے اپنے ایک ناول میں جادوگروں کے الیکشن کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس بارے میں معروف تنقید نگار ریوتی سرن شرما نے لکھا ہے کہ ’’جادوگروں کا الیکشن ایک دفعہ پھر روایتی کرداروں کا اجتماع ہے۔ الہ دین چراغ والا، سلیمانی ٹوپی والا، کاغذ پر منتر پھونکنے والا۔ بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے یہ کردار جانے پہچانے ہیں۔ جادوگروں کا یہ الیکشن ایک سیاسی تمثیل ہے جس میں کرشن چندر نے حکمران طبقہ کی ان چالوں کو بے نقاب کیا ہے جن کے ذریعے وہ رعایا کو دہشت اور غفلت میں گرفتار کرکے اپنا مستقبل محفوظ بناتے ہیں۔‘‘

کرشن چندر ہمارے ان ادیبوں میں سے تھے جو سیاست اور سیاست دانوں کے ’’کارناموں‘‘ پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ انھوں نے ایسے افسانے، فکاہیے اور ناول لکھے جن میں برصغیر کی سیاست پر طنز کے تیر برسائے اور سماج کے مختلف طبقات کو آئینہ دکھایا۔ ناول ’’الٹا درخت‘‘ انھوں نے کہنے کو بچوں کے لیے لکھا تھا لیکن وہ دراصل بڑوں کی دنیا کا کیری کیچر ہے۔ یہ سب کچھ ایک یتیم لڑکے یوسف کی زندگی کا واقعہ ہے جو بارہ برس کی عمر میں باپ کے سائے سے محروم ہوجاتا ہے۔ روٹیوں کے لالے پڑجاتے ہیں تو ماں کہتی ہے کہ تم جاکر بادشاہ کی فوج میں بھرتی ہوجاؤ۔ یوسف فوج میں جانے اور بادشاہ کی ملازمت کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ یوسف کو بادشاہ اس لیے بھی ناپسند ہے کہ اسے ظلم کرنے کی بیماری ہے اور یوسف ظلم کرنے والوں کو بہت ناپسند کرتا ہے۔ کرشن جی کی یہ کہانی آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے، اس میں دیو اور جن آتے ہیں۔ وہ لوگ نظر آتے ہیں جو سونے کے ہوچکے ہیں اور وہ بھی جن کی انگلیاں کاٹ دی گئی ہیں اور صرف انگوٹھے باقی بچے ہیں۔

اپنے ناول ’’الٹا درخت‘‘ میں انھوں نے جادوگروں کے دیس میں ہونے والے الیکشن کا نقشہ کس مہارت سے کھینچا ہے۔ سامنے بہت سے لوگ رنگ برنگی جھنڈیاں ہلاتے ہوئے جارہے تھے۔ مجمع زور زور سے نعرے لگا رہا تھا ’’الہ دین کو ووٹ دو، جو الہ دین کو ووٹ نہیں دے گا وہ ملک کا غدار ہوگا۔ الہ دین زندہ باد‘‘ مجمع اسی طرح نعرے لگاتا ہوا جھنڈیاں ہلاتا ہوا شہر کے ایک بڑے چوک میں پہنچا۔ یوسف نے دیکھا لوگ بھوکے ہیں، ان کے کپڑے بوسیدہ اور تار تار ہیں مگر پھر بھی وہ خوش نظر آرہے ہیں۔ کوئی یوسف کو بتاتا ہے کہ آج جادوگروں کا الیکشن ہے اور الہ دین اپنا چراغ ہاتھ میں لیے الیکشن لڑ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں بھی تمہاری طرح ایک معمولی آدمی ہوں، میں ایک درزی کا بیٹا ہوں، میں تمہارے دکھ درد پہچانتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے تم لوگ بھوکے ہو، غریب ہو، تمہارے جسم پر کپڑے نہیں، بچوں کے لیے تعلیم نہیں ہے، مجھے معلوم ہے، پچھلی حکومت نے تمہارے لیے کچھ نہیں کیا۔ مگر وہ سونے کے دیو کی حکومت تھی، میں درزی کا بیٹا ہوں، میں تمہارے سب دکھ درد دور کردوں گا۔

اپنے جادو کے چراغ کی مدد سے میں تمہارے لیے ہر طرح کے عیش کا سامان مہیا کروں گا۔ وہ جادو کے چراغ کو رگڑتا ہے اور ایک محل سامنے آجاتا ہے۔ محل کے اندر روشنیاں جگمگ جگمگ کررہی تھیں، اندر کمروں میں باجے بج رہے تھے، خوبصورت قالین اور صوفے بچھے ہوئے نظر آرہے تھے۔ لمبی لمبی میزوں پر طرح طرح کے پھل چنے ہوئے تھے۔ مرغن کھانے، بھنے ہوئے مرغ پلاؤ، متنجن زردہ، قورمے، طرح طرح کی سبزیاں، فالودے، فرنیاں، شربت، آئسکریم گھومتی ہوئی میزوں پر رکھی ہوئی نظر آرہی تھی، لوگوں کی رال ٹپکنے لگی۔ لاکھوں گلوں سے آواز نکلی، الہ دین کو ووٹ دو۔ الہ دین زندہ باد، ایک ووٹ، ایک ملک، ایک الہ دین، ایک چراغ۔ یکایک الہ دین نے تالی بجائی، جن اپنے محل سمیت غائب ہوگیا۔ الہ دین نے کہا پہلے مجھے ووٹ دو پھر یہ محل تمہیں ملے گا۔ لوگ دھڑا دھڑ ووٹ دینے کے لیے جانے لگے۔ دوسری طرف سے آواز آئی ’’لوگو! بیوقوف نہ بنو، یہ الہ دین درزی کا بیٹا تمہیں بیوقوف بنارہا ہے۔ اصلی جادو تو میرے پاس ہے، جادو کی ٹوپی سلیمانی ٹوپی! لوگوں کا مجمع دوسری طرف پلٹ پڑا۔ جہاں ایک بہت بڑے بینڈ باجے کے ساتھ ایک بہت بڑے چبوترے پر دو درجن لاؤڈ اسپیکروں کے سامنے ایک جادوگر سلیمانی ٹوپی ہاتھ میں لیے تقریر کررہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا۔

الہ دین ٹھگ ہے، اسے ہرگز ووٹ نہ دینا۔ الہ دین کا چراغ پرانا ہوچکا ہے، اس کا جن بھی بڈھا ہوچکا ہے۔ اتنے دنوں سے وہ تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکا، اب کیا کرے گا؟ اب کے تم مجھے ووٹ دو کیونکہ میرے پاس سلیمانی ٹوپی ہے، یہ ٹوپی میں نے بڑی مشکل سے حاصل کی ہے، ہزاروں تکلیفیں سہہ کر، اپنی جان کی بازی لگا کر بڑی مصیبتوںکے بعد میں نے اس ٹوپی کو حاصل کیا ہے۔ یہ کوئی معمولی ٹوپی نہیں ہے، اسے پہن کر آدمی یوں غائب ہوجاتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ دیکھو دیکھو سلیمانی ٹوپی کا کمال دیکھو۔ یہ کہہ کر جادوگر نے سلیمانی ٹوپی پہن لی اور مجمع کے درمیان سے یکایک غائب ہوگیا۔ اب صرف اس کی آواز آرہی تھی۔ دیکھا یہ سلیمانی ٹوپی کا کمال ہے، اسے پہن کر آدمی غائب ہوسکتا ہے۔ جادوگر نے اپنے سر سے ٹوپی اتاری اور اب وہ سب کو نظر آنے لگا۔ اس ٹوپی کو پہن کر آدمی غائب ہوسکتا ہے، جہاں چاہے گھوم سکتا ہے، وہ ساری دنیا کی سیر کرسکتا ہے، وہ جہاں چاہے بغیر ٹکٹ کے جاسکتا ہے اور اسے کوئی ٹوکنے والا نہیں۔ اس ٹوپی کو پہن کر آدمی بڑے بڑے راز معلوم کرسکتا ہے۔

وہ اونچی سوسائٹی میں جا سکتا ہے اور کوئی اسے ٹوک نہیں سکتا، اس ٹوپی کو پہن کر آدمی وزیر بن سکتا ہے، نوکری حاصل کرسکتا ہے، یہ سلیمانی ٹوپی ہے اس کے سامنے الہ دین کا چراغ بالکل ہیچ ہے، اسے رگڑنے کی ضرورت نہیں، کسی جن کو بلانے کی ضرورت نہیں، بس اسے سر پر پہن لیجیے آپ کے سب کام پورے ہوجائیں گے۔ الہ دین کے پاس ایک ہی چراغ ہے لیکن میں نے سب کے فائدے کے لیے ہزاروں سلیمانی ٹوپیاں تیار کرائی ہیں۔ آیئے مجھے ووٹ دیجیے اور ایک سلیمانی ٹوپی لیتے جائیے، ایک ووٹ،ایک سلیمانی ٹوپی۔ لوگ دھڑا دھڑ ووٹ دینے کے لیے بھاگنے لگے اور شور مچانے لگے ’’سلیمانی ٹوپی زندہ باد، الہ دین کا چراغ مردہ باد۔

تیسرے چبوترے سے ایک زور کا قہقہہ بلند ہوا، سب لوگ ادھر دیکھنے لگے، وہاں ایک اور جادوگر سر پر سفید کاغذ کی ٹوپی رکھے، سفید کاغذ کا کوٹ پہنے، آنکھوں میں چشمہ لگائے ہاتھ میں اخبار لیے ہوئے ہنس رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔ دوستو! یہ سلیمانی ٹوپی والا بہروپیا ہے، یہ خود تو ووٹ لے کر غائب ہوجائے گا اور آپ کو کپڑوں کی ٹوپیاں دے جائے گا، چاہے آپ ان کو سر پر پہنے، چاہے تھیلا بنا کر گھر لے جائیے، دوستو یہ سلیمانی ٹوپی کس کام کی؟ غائب ہوکر آپ کیا کریں گے، اگر آپ کو جادو کی دنیا میں رہنا ہے تو سچا دوست تلاش کرنے کی کوشش کیجیے اور سچے جادوگر کو اپنا بادشاہ بنائیے۔ مجھے دیکھیے میرا جادو کسی کو غائب نہیں کرتا، کوئی ہوائی محل نہیں دکھاتا۔ میں ابھی آپ کے سامنے وہ چیز رکھتا ہوں جس کی آپ کو ضرورت ہے۔ اور پھر وہ سادہ کاغذ پر سب کی خواہشوں کا عکس دکھاتا ہے۔

لوگ اس کی طرف ہوجاتے ہیں، لیکن یوسف لوگوں پر اس جھوٹ کا بھی پردہ چاک کردیتا ہے۔ یوسف کی عقلمندی جادوگر پر کھل جاتی ہے اور وہ زور سے گرجتا ہے کون ہے؟ کون حقیقت پسند گھس آیا ہے ہماری جادو کی دنیا میں، اسے جلدی نکالو، ورنہ یہ سب کچھ تباہ کردے گا، ہمارا جادو ختم ہوجائے گا۔ اتنا سنتے ہی الہ دین چراغ والا، سلیمانی ٹوپی والا، جادو کے کاغذ والا اور اس کے حمایتی یوسف اور اس کے دوستوں کے پیچھے بھاگے۔ وہ تو خیر ہوئی کہ یوسف نے چالاکی سے کام لیا، جلدی سے سلیمانی ٹوپیوں کے بنڈل سے تین ٹوپیاں نکالیں اور انھیں پہن کر وہ تینوں مجمع کے بیچ میں سے غائب ہوگئے، ورنہ اتنا بڑا مجمع ان کے پیچھے پڑ جاتا تو ان کی ہڈی پسلی بھی نہ بچتی۔

یہ کہانی تھی، وہ بھی کرشن چندر جیسے جادو نگار کے قلم سے، لیکن حقیقت بہت سفاک ہوتی ہے۔ ہمارے ملکوں میں غریب اور بدحال لوگوں سے انتخابات کے موسم میں ہونے والے وعدے جس طرح نقش بر آب ثابت ہوتے ہیں اس کا کرشن جی نے کمال نقشہ کھینچا ہے۔ جادوگروں کے دیس میں انتخابی وعدوں کے ساتھ اور سنہرے خوابوں کے جال میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ساتھ جو ہوا وہ ہم پڑھ چکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آج کی حقیقی دنیا میں وعدوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اور ووٹ کیا محض کاغذکا پرزہ ثابت ہونے والا ہے یا اس کی قوت لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے میں کوئی کردار ادا کرتی ہے۔ جمہوریت کی ریل گاڑی پٹری پر رہتی ہے یا نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ ’’روزنامہ ایکسپریس‘‘

Check Also

جنگ ستمبر کی یادیں

الطاف حسن قریشی کا کالم 6 ستمبر قوم کی وحدت، عظمت، عزیمت اور شجاعت کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے